بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-442 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
رہائشی مکان اور کرائے پر دیے گئے مکان کی مالیت (Value) پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔ البتہ کرائے پر دیے گئے مکان سے جو ماہانہ کرایہ آتا ہے، اگر وہ سال کے آخر میں آپ کی دیگر قابلِ زکوٰۃ رقم کے ساتھ موجود ہو (نصاب کو پہنچتا ہو)، تو اس جمع شدہ رقم پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ واجب ہو گی۔ مکان پر زکوٰۃ نہیں۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ