لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

کرائے کے مکان یا پلاٹ پر زکوٰۃ کا حکم

میرے دو مکان ہیں، ایک میں خود رہتا ہوں اور دوسرا کرائے پر دیا ہے، کیا ان پر زکوٰۃ ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

رہائشی مکان اور کرائے پر دیے گئے مکان کی مالیت (Value) پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔ البتہ کرائے پر دیے گئے مکان سے جو ماہانہ کرایہ آتا ہے، اگر وہ سال کے آخر میں آپ کی دیگر قابلِ زکوٰۃ رقم کے ساتھ موجود ہو (نصاب کو پہنچتا ہو)، تو اس جمع شدہ رقم پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ واجب ہو گی۔ مکان پر زکوٰۃ نہیں۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-442 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

زکوۃ و عشر کے مسائل