بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-493 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پراویڈنٹ فنڈ کے دو حصے ہوتے ہیں: ایک ملازم کی کٹوتی، اور دوسرا کمپنی کا حصہ۔ جب تک یہ فنڈ ملازم کو مل نہ جائے (ریٹائرمنٹ پر یا استعفیٰ پر)، اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، کیونکہ اس پر ملازم کا مکمل قبضہ (تامِ ملکیت) نہیں ہوتا۔ جب یہ رقم مل جائے گی تو اس کے بعد سال گزرنے پر زکوٰۃ فرض ہوگی، پچھلے سالوں کی زکوٰۃ لازم نہیں۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ