بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-517 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو (اور کچھ بھی کیش یا چاندی نہ ہو) تو زکوٰۃ اس وقت فرض ہوگی جب سونا ساڑھے سات تولہ (87.48 گرام) ہو۔ لیکن اگر سونے کے ساتھ تھوڑی سی بھی نقدی (Cash) یا چاندی موجود ہو، تو پھر ساڑھے سات تولہ کی شرط ختم ہو جائے گی اور کل مالیت کو چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ یعنی 612.36 گرام کی مالیت) سے جانچا جائے گا۔ چاندی کے نصاب کے برابر مالیت بنتے ہی 2.5٪ زکوٰۃ فرض ہو گی۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ