لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

اپنی بیوہ یا غریب بہن کو زکوٰۃ دینا

کیا میں اپنی بیوہ بہن کو جو غریب ہے، اپنی زکوٰۃ دے سکتا ہوں؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جی ہاں، اصولِ شرع کے مطابق انسان اپنے اصول (والدین، دادا دادی) اور فروع (اولاد، پوتے پوتیاں) اور میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ ان کے علاوہ دیگر مستحق رشتہ داروں (جیسے بھائی، بہن، چچا، خالہ) کو زکوٰۃ دینا بالکل جائز ہے، بلکہ غریب رشتہ دار کو دینے میں دوہرا اجر ہے (ایک زکوٰۃ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا)۔ بہن کو بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اظہر علیمی
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-518 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

زکوۃ و عشر کے مسائل