بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-418 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شریعت کا اصول ہے کہ کل مالیت میں سے واجب الادا قرض منہا (Minus) کیا جاتا ہے۔ آپ 10 لاکھ میں سے 4 لاکھ کا قرض نکال دیں گے۔ باقی 6 لاکھ روپے چونکہ نصاب سے زیادہ ہیں، اس لیے آپ پر ان 6 لاکھ کی ڈھائی فیصد زکوٰۃ واجب ہو گی۔ اگر قرض نکالنے کے بعد رقم نصاب سے کم رہ جائے تو زکوٰۃ معاف ہو جاتی ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ