لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

قرض دار (مقروض) پر زکوٰۃ کا حساب کیسے ہو گا؟

میرے پاس 10 لاکھ روپے ہیں لیکن مجھ پر 4 لاکھ کا قرض بھی ہے، زکوٰۃ کس رقم پر دوں گا؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شریعت کا اصول ہے کہ کل مالیت میں سے واجب الادا قرض منہا (Minus) کیا جاتا ہے۔ آپ 10 لاکھ میں سے 4 لاکھ کا قرض نکال دیں گے۔ باقی 6 لاکھ روپے چونکہ نصاب سے زیادہ ہیں، اس لیے آپ پر ان 6 لاکھ کی ڈھائی فیصد زکوٰۃ واجب ہو گی۔ اگر قرض نکالنے کے بعد رقم نصاب سے کم رہ جائے تو زکوٰۃ معاف ہو جاتی ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-418 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

زکوۃ و عشر کے مسائل