وضو ایک عبادت ہے۔ وضو کے دوران دنیاوی باتیں کرنا مکروہِ تنزیہی ہے کیونکہ اس سے انسان کی توجہ عبادت سے ہٹ جاتی ہے اور وضو کی مسنون دعائیں پڑھنے میں خلل آتا ہے۔ البتہ اگر کوئی شدید ضرورت ہو (جیسے کوئی چیز مانگنی ہو یا خطرے سے آگاہ کرنا ہو) تو بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ واللہ اعلم۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-512 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-512
تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن
شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں
اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں: