بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-462 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جی ہاں، غسل میں پورے جسم پر ایک بار پانی بہانا فرض ہے کہ سوئی کی نوک برابر جگہ بھی خشک نہ رہے۔ ناف کے اندر تک پانی پہنچانے کے لیے انگلی سے دھونا ضروری ہے۔ اسی طرح اگر عورت نے کانوں یا ناک میں سوراخ کروائے ہوں تو ان کے اندر پانی پہنچانا فرض ہے۔ اگر بالیاں پہنی ہوں تو انہیں ہلا لیں تاکہ پانی اندر چلا جائے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ