بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-516 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جی ہاں، حالتِ جنابت (ناپاکی) میں سحری کھانا اور روزے کی نیت کرنا بالکل جائز ہے۔ روزے کے لیے پاک ہونا شرط نہیں ہے۔ اگر سحری کا وقت کم ہو تو صرف ہاتھ منہ دھو کر یا وضو کر کے سحری کھا لیں، اور فجر کی نماز کے لیے بعد میں غسل کر لیں۔ البتہ جان بوجھ کر غسل کو صبح تک مؤخر کرنا اور فجر کی نماز قضا کر دینا سخت گناہ ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ