بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

حالتِ جنابت (ناپاکی) میں سحری کھانا

اگر غسل فرض ہو اور وقت کم ہو تو کیا غسل کیے بغیر سحری کھا کر روزہ رکھ سکتے ہیں؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جی ہاں، حالتِ جنابت (ناپاکی) میں سحری کھانا اور روزے کی نیت کرنا بالکل جائز ہے۔ روزے کے لیے پاک ہونا شرط نہیں ہے۔ اگر سحری کا وقت کم ہو تو صرف ہاتھ منہ دھو کر یا وضو کر کے سحری کھا لیں، اور فجر کی نماز کے لیے بعد میں غسل کر لیں۔ البتہ جان بوجھ کر غسل کو صبح تک مؤخر کرنا اور فجر کی نماز قضا کر دینا سخت گناہ ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات