بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-426 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شریعت میں کسی کا مال اس کی رضامندی کے بغیر لینا حرام ہے۔ سودا کینسل ہونے کی صورت میں مالک کے لیے خریدار کا بیعانہ (Token) ضبط کرنا ناجائز ہے، اسے وہ رقم واپس کرنی ہو گی۔ البتہ اگر مالک کو سودا کینسل ہونے سے کوئی حقیقی نقصان ہوا ہو تو وہ صرف اس نقصان کے بقدر رقم کاٹ سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ