لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

ڈراپ شپنگ (Dropshipping) کا شرعی حکم

ڈراپ شپنگ (جس میں ہم سپلائر سے چیز خریدے بغیر کسٹمر کو بیچتے ہیں) حلال ہے یا حرام؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عام ڈراپ شپنگ ماڈل جس میں فروخت کنندہ اس چیز کو بیچتا ہے جو ابھی اس کی ملکیت اور قبضے میں نہیں آئی، شریعت میں ناجائز ہے (نبی کریم ﷺ نے اس چیز کے بیچنے سے منع فرمایا جو تمہارے پاس نہ ہو)۔ اسے جائز کرنے کے دو طریقے ہیں: یا تو سپلائر کا ‘وکیل’ (Broker) بن کر مخصوص کمیشن لے، یا ‘بیع سلم’ (پہلے پوری رقم لے کر بعد میں ڈلیوری کا وعدہ) کے اصول پر کام کرے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-501 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

تجارت کے مسائل