عام ڈراپ شپنگ ماڈل جس میں فروخت کنندہ اس چیز کو بیچتا ہے جو ابھی اس کی ملکیت اور قبضے میں نہیں آئی، شریعت میں ناجائز ہے (نبی کریم ﷺ نے اس چیز کے بیچنے سے منع فرمایا جو تمہارے پاس نہ ہو)۔ اسے جائز کرنے کے دو طریقے ہیں: یا تو سپلائر کا ‘وکیل’ (Broker) بن کر مخصوص کمیشن لے، یا ‘بیع سلم’ (پہلے پوری رقم لے کر بعد میں ڈلیوری کا وعدہ) کے اصول پر کام کرے۔ واللہ اعلم۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-501 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-501
تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن
شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں
اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں: