اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
ایسی کمپنی میں کام کرنا جہاں شراب کا کوئی کام ہوتا ہو کیسا ہے ؟
سوال (Question):
میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں جہاں کھلونے، کپڑے، جوتے، مکینک کے اوزار، گھریلو استعمال کی مشینیں اور شراب وغیرہ اسٹور کی جاتی ہیں اور پھر گاہکوں کو بھیجی جاتی ہیں۔
میں رات کے وقت اس کمپنی میں فورک لفٹ چلاتا ہوں۔ اس کام میں مجھے شراب والے بھاری pallets (جو تقریباً 1000 کلو یا اس سے زیادہ وزن کے ہوتے ہیں) فورک لفٹ کے ذریعے aisle میں رکھنا اور اتارنا پڑتا ہے۔کیا یہ کام گناہ میں شمار ہوگا؟اور کیا اس کی کمائی جائز ہے؟مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں۔
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ایسی کمپنی میں کام کرنا جہاں شراب کا کوئی کام ہوتا ہو کیسا ہے ؟
الجواب بعون اللہ الوھاب
ایسی کمپنی میں مذکورہ کام کرنا ناجائز وگناہ ہے،اس کی کمائی بھی حلال نہیں.
قرآن کریم میں ارشاد ہے : ﴿ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللہَ اِنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الْعِقَابِ ﴾
”اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرواور اللہ سے ڈرتے رہو، بےشک اللہ شدید عذاب دینے والا ہے ۔ “( المائدہ:٢)
حدیث شریف میں ہے:
’’لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فی الخمر عشرۃ: عاصرھا ومعتصرھا وشاربھا وحاملھا والمحمولۃ الیہ وساقیھا وبائعھا واٰکل ثمنھا والمشتری لھا والمشتراۃ لہ‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے معاملے میں دس بندوں پر لعنت فرمائی ہے، جو شراب کے لیے شیرہ نکالے،جو شیرہ نکلوائے،جو شراب پیے،جو اٹھا کر لائے،جس کے پاس لائی جائے،جو شراب پلائے،جو بیچے،جو اس کے دام کھائے،جو خریدے اور جس کے لیے خریدی جائے ۔ “
(جامع ترمذی، ابواب البیوع،١/ ٢٤٢)
فتاوی رضویہ شریف میں ارشاد ہے :
شراب کابنانا، بنوانا، چھونا، اٹھانا، رکھنا، رکھوانا، بیچنا، بکوانا، مول لینا، دلواناسب حرام حرام حرام ہے اور جس نوکری میں یہ کام یا شراب کی نگہداشت، اس کے داموں کا حساب کتاب کرنا ہو،سب شرعاً ناجائز ہیں ۔ قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ﴾“(فتاوی رضویہ،٢٣/ ٥٦٥-٥٦٦، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
فتاوٰی بحرالعلوم میں ہے :
’’ایک غیر مسلم کی شراب کی دوکان ہے، اس میں زید بحیثیت ملازم نوکری کرتا ہے،حالانکہ زید شراب و غیرہ نہیں پیتا،تو کیا اس طریقے سے شراب کی دوکان میں ملازمت کرکے رزق حاصل کرنا جائز ہے یا ناجائز؟‘‘
اس کےجواب میں ہے:
’’حدیث شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت فرمائی۔بنانے والا،پینے والا،اور اٹھانے والا، اور جس کے پاس اٹھا کر لائی گئی،بیچنے والا، اور اس کے دام کھانے والا، پلانے والا ،خریدنے والا،اور جس کے لئے خریدی گئی۔ جس سے ظاہر ہے کہ شراب کی دوکان کی ملازمت خبیث ہے اور اس کی کمائی حرام ہے۔‘‘ (فتاوٰی بحرالعلوم٤/ ٣ مطبوعہ ،شبیر برادرز،لاہور)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کمال احمد علیمی نظامی
دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی
٢٨ ذوالقعدہ ١٤٤٧ھ/ ١٦ مئی ٢٠٢٦ ء