ڈاکٹروں کا مریض کو لیبارٹری بھیجنے پر متعینہ کمیشن لینے کا حکم۔
پوچھی گئی صورت میں ڈاکٹروں کا مریضوں کو صرف خون جانچ یا الٹراساؤنڈ کرانے کے لیے لیبارٹری بھیجنے پر لیبارٹری والوں سے متعینہ کمیشن وصول کرنا رشوت ہونے کی وجہ سے ناجائز و گناہ ہے۔اس لیے کہ کوئی شخص کمیشن کا اس وقت مستحق ہوتا ہے، جب وہ کوئی قابل معاوضہ (یعنی اس کے لیے محنت ، بھاگ دوڑ ) والا کام کرے حالاں کہ لیبارٹری والوں کے لیے ڈاکٹر کوئی قابل معاوضہ کام نہیں کرتا، صرف مریض کو بیٹھے بیٹھے لیبارٹری کا پتہ بتا دینا یا مشورہ دے، دینا یہ کوئی قابل معاوضہ کام نہیں ہے، اس لیے لیبارٹری والوں سے ڈاکٹروں کو کمیشن لینا ناجائز و گناہ بلکہ رشوت ہے جس سے بچنا از حد ضروری ہے۔
رد المحتار میں ہے:
” الدلالة و الاشارۃ لیست بعمل یستحق به الأجر۔۔۔ ان قال لرجل بعینه ان دللتنی علی کذا فلک کذا، ان مشی له فدله فله اجر المثل للمشی لاجله، لان ذٰلك عمل یستحق بعقد الاجارۃ.”اھ ملتقطا
ترجمہ: محض بتانا اور اشارہ کرنا ایسا عمل نہیں ہے، جس پر وہ اجرت کا مستحق ہو۔ اگر کسی نے ایک معین شخص کو کہا اگر تو مجھے فلاں چیز پر رہنمائی کرے تو تیرے لیے اتنی اجرت ہوگی، اگر وہ شخص چلا، اس کی رہنمائی کی تو اس کے لیے اجرت مثل ہوگی اس کے لیے چلنے کی وجہ سے، کیوں کہ چلنا ایسا عمل ہے جس پر عقد اجارہ میں اُجرت کا مستحق ہوتا ہے۔”اھ
[ ردالمحتار مع الدرالمختار: ج:٩ ، ص:١٣١، کتاب الاجارة، مطلب: ضل له شیئ فقال : من دلنی علیه فله کذا، ط: دار عالم الکتب الریاض]
کمیشن لینے کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے:
"اگر کارندہ نے اس بارہ میں جو محنت و کوشش کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی بائع کے لیے کوئی دوا دوش نہ کی، اگرچہ بعض زبانی باتیں اس کی طرف سے بھی کی ہوں مثلا آقا کو مشورہ دیا کہ یہ چیز اچھی ہے خرید لینی چاہیے یا اس میں آپ کا نقصان نہیں، اور مجھے اتنے روپے مل جائیں گے ،اس نے خرید لی، جب تو یہ شخص عمرو بائع سے کسی اجرت کا مستحق نہیں کہ اجرت آنے جانے محنت کرنے کی ہوتی ہے نہ بیٹھے بیٹھے دو چار باتیں کہنے، صلاح بتانے، مشورہ دینے کی۔”اھ
[ الفتاوی الرضویةالریان: ج١٩،ص:٤٥٣،ط: رضا فاونڈیشن، لاہور]
اسی کے متعلق” فیصلہ جات شرعی کونسل ” میں ہے :
” ڈاکٹر مریض کو کسی خاص لیب کا پتہ بتا کر لیب والوں سے کمیشن حاصل کرتے ہیں یہ نا جائز ہے کیوں کہ یہ کمیشن اجارہ مطلقہ نہیں بلکہ دلالی ہے ۔ لیکن اس دلالی کے عوض ڈاکٹر کا کمیشن لینا درست نہیں کہ وہ کسی عمل کا بدل نہیں وہ محض کے ایک صلاح یا رہنمائی ہے جس پر وہ اجرت کا مستحق نہیں۔ "اھ
[ فیصلہ جات شرعی کونسل: ص : ٢٢٦، ط: مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعة الرضا بریلی شریف]
علاج و معالجہ میں مروج کمیشن کے حکم کے متعلق ” تحریک دعوت انسانیت ، ڈیرہ پور کان پور دیہات ، میں منعقد فقہی سیمینار کے فیصلے” میں ہے :
"طبی جانچ مراکز اور دوا خانوں کی طرف سے ڈاکٹر حضرات جو تحفہ لیتے ہیں جسے سماج میں عام طور پر کمیشن سمجھا جاتا ہے وہ شرعی نقطئہ نظر سے رشوت کا معاملہ ہے اور اس سے عام مریضوں کو ضرر بھی لاحق ہوتا ہے اور یہ ملکی قانون کے اعتبار سے بھی جرم ہے اس لیے یہ معاملہ شرعا و قانونا ہر اعتبار سے ناجائز و گناہ ہے۔
ہاں اگر ڈاکٹر یہ اعلان کر دیں کہ انہیں پیتھالوجی اور دوسرے طبی جانچ مراکز اور دواخانوں سے کمیشن نہیں چاہیے پھر بھی مذکورہ جگہوں سے تحفے آتے ہیں تو لینے کی اجازت ہوگی؛ لأن الصريح يفوق الدلال۔ یہ شرعی حکم ہے لیکن اگر قانون یہ بھی ممنوع ہو تو شرعا ممنوع ہے۔”اھ
[ ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور: ص :٥٢، شمارہ: نومبر ٢٠٢٦ء] واللہ تعالی اعلم
٢١ جمادی الاولی ١٤٤٨ھ مطابق ٢ نومبر ٢٠٢٦ء بروز یک شنبہ۔
الجواب صحیح
محمد نصیر الدین قادری جامعی مصباحی
استاذ و مفتی جامعہ اسلامیہ روناہی فیض آباد یوپی۔
الجواب صحیح
محمد سلمان رضا خان جامعی ازہری
استاذ و نائب صدرالمدرسین : جامعہ اسلامیہ روناہی فیض آباد یوپی۔