دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #437
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
جسم پر گودھے ہوئے ٹیٹو (Tattoo) کے ساتھ وضو اور غسل کا حکم
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: اگست 12, 2026
0
4,896
سوال (Question):
جسم پر ٹیٹو (Tattoo) بنوانا کیسا ہے، اور کیا اس کے ساتھ غسل ہو جاتا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
سوئی چھو کر جسم پر رنگ بھرنا (Tattooing) قطعی حرام ہے اور حدیث میں اس پر لعنت فرمائی گئی ہے۔ البتہ چونکہ ٹیٹو کا رنگ جلد کے اندر (نیچے) چلا جاتا ہے اور جلد کے اوپر کوئی تہہ (layer) نہیں بناتا جو پانی کو روکے، اس لیے اس شخص کا وضو اور غسل ہو جاتا ہے۔ اگر ممکن ہو اور نقصان نہ ہو تو اسے لیزر سے مٹوانا لازم ہے، وگرنہ توبہ کرے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
Recent Fatawa
ایسی کمپنی میں کام کرنا جہاں شراب کا کوئی کام ہوتا ہو کیسا ہے ؟
Read Fatwa
2
فاسق کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم از علامہ مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
2
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
Read Fatwa
30
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
20
مجھے بہت جلدی اور شدید غصہ آتا ہے، کیا پڑھوں؟
Read Fatwa
45