لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

جسم پر گودھے ہوئے ٹیٹو (Tattoo) کے ساتھ وضو اور غسل کا حکم

جسم پر ٹیٹو (Tattoo) بنوانا کیسا ہے، اور کیا اس کے ساتھ غسل ہو جاتا ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

سوئی چھو کر جسم پر رنگ بھرنا (Tattooing) قطعی حرام ہے اور حدیث میں اس پر لعنت فرمائی گئی ہے۔ البتہ چونکہ ٹیٹو کا رنگ جلد کے اندر (نیچے) چلا جاتا ہے اور جلد کے اوپر کوئی تہہ (layer) نہیں بناتا جو پانی کو روکے، اس لیے اس شخص کا وضو اور غسل ہو جاتا ہے۔ اگر ممکن ہو اور نقصان نہ ہو تو اسے لیزر سے مٹوانا لازم ہے، وگرنہ توبہ کرے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-437 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

طہارت کے مسائل