بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2796 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اسکرٹ (skirt) بیچناکیسا ہے ۔
سوال ۔ اسکرٹ-skirt-بیچناکیسا-ہے- جو مسلمان کپڑے بیچتے ہیں ان کے لیے جائز ہے کہ وہ عورتوں کے چھوٹے کپڑوں کو بیچیں؟ یعنی کہ اسکرٹ (skirt) جو شیطانی راہ پر لے جاتے ہیں۔یہ سوال اور آپ کے جواب Publish ہوکر ایک کتاب میں شامل ہوں گے جس کامضمون ہے ’’مسلمانوں کے Transactions المستفتی : عمران اشرف حکم شرعی: اسکرٹ (skrit) بلاوز اور اس طرح کے دوسرے کپڑے جن سے فاسقات اپنے پوشیدہ اعضا کی نمائش کرتی ہیں اور بے حیائی اور بد چلنی عام ہوتی ہے اس لائق نہیں کہ مسلمان انہیں سلیں یا بیچیں کہ یہ بے حیائی اور بد چلنی کے کام پر ایک طرح تعاون ہے ۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے:علما نے فساق کی وضع کے کپڑے، موزے سلنے سے ممانعت فرمائی ۔ فتاویٰ خانیہ میں ہے: الاسکاف والخیاط اذا استوجر علیٰ خیانہ شیٔ من زی والفساق ویعطی لہ فی ذلک کثیرا اجر لا یستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ اھ (فتاویٰ رضویہ ص۹۱ ج۱۰) یہ فاسقات اگر مسلمہ ہوں تو وہ ممانعت ظاہر ہے کہ یہ ان کا لباس نہیں ، اسلام ایسے لباس کی اجازت نہیں دیتا نیز اس میں کافرات سے تشبہ ہے اور ایسے لباس ان کے ہاتھ بیچنا گناہ پر تعاون ہے۔ اور اگر وہ کافرات ہوں اور ان کے مذہب میں اس کی اجازت بھی ہوتو بھی بیچنا اس لیے ممنوع ہے کہ اس سے نظریں بہکتی ہیں، اخلاق بگڑتے ہیں انہیں دیکھ کر دوسری عورتوں کو بھی بے حیائی پر جرأت ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ یہ فساد معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ وقال اللہ تعالیٰ: ولا تفسدوا فی الارض۔مختصر یہ کہ معاشرے میں برے لباس کا تعدیہ وانفیکشن پورے معاشرے میں ظاہر وباہر ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ