بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-481 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اگر گیم میں کوئی شرکیہ فعل نہ ہو (جیسے بتوں کے سامنے جھکنا)، اور کوئی مالی شرط (جوا) نہ لگی ہو، تو اسے محض ٹائم پاس کے لیے کھیلنا اصالتاً مباح ہے۔ لیکن اگر یہ نمازوں میں غفلت، وقت کے ضیاع، یا لڑائی جھگڑے کا سبب بنے تو ناجائز ہے۔ اگر ٹورنامنٹ میں فیس دے کر انعام جیتا جائے تو وہ خالص جوا اور حرام ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ