کیا ناپاک آدمی بھی اذان کا جواب دیسکتا ہے؟
حالت ناپاکی میں بھی اذان کا جواب دے سکتے ہیں لیکن بہتر و مناسب ہے کہ، اذان کا جواب دینے سے پہلے وضو وغیرہ کرلیں۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ ویجوز للجنب والحاںٔض الدعوات وجواب الاذان ونحو ذلک،، جنبی و حائضہ ،کیلئے دعائیں پڑھنا اور اذان کا جواب دینا اور اُس جیسی چیزیں جائز ہے (فتاوی عالمگیری جلد ۱ کتاب الجنایات صفحہ (۳۸) اور حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ، قرآن مجید کے علاوہ اور تمام اذکار کلمہ شریف دُرود شریف وغیرہ پڑھنا بلا کراہت جائز بلکہ مستحب ہے اور ان چیزوں کو وضو یا کلی کرکے پڑھنا بہتر ہے اور ویسے بھی پڑھ لیا جب بھی حرج نہیں اور انکو چھونے میں بھی حرج نہیں (بہار شریعت حصّہ دوم (۲) حیض و نفاس کے متعلق احکام صفحہ، (۳۷۹) المکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی)