لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

ناشریا وارث کے لیے حق طباعت کامطالبہ کرناجائز / مسائل ورلڈ

سوال ایک دینی ادارے نے ایک کتاب پر تحقیق و تخریج اور تسہیل و تصحیح جیسے کئی کام کرنے کے بعد اسے عوام الناس کے فائدے کے لیے شائع کردیا، جس پر مصنف (دنیا سے پردہ فرمائے ہوئے ۳۲؍ سال ہوچکے ہیں) کے ایک بیٹے نے اس کام کی تعریف تو کی کہ بہت اچھا کام کیا ہے لیکن ادارے سے یہ مطالبہ کیا کہ یہ میرے والد کی کتاب ہے ۔

اس کے حقوق میرے پاس ہیں اور آپ نے اسے بغیر اجازت شائع کیا ہے ۔ اس لیے ہمیں اس میں سے دس فیصد کے حساب سے کتاب کے اڑھائی ہزار نسخے یا پھر ان کی قیمت دی جائے جوکہ میں والد صاحب کے ورثا میں تقسیم کروں گا، سب بہن بھائی بغیر اجازت کتاب چھاپنے پر بہت ناراض ہیں اور یہ مطالبہ سب ورثا کی طرف سے ہے، کیوں کہ یہ وراثت کا معاملہ ہے ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان ورثا کا یہ مطالبہ شرعاً درست ہے؟ نیز انہیں رقم یا کتاب کے نسخے دینا ضروری ہے؟ ۔ یاد رہے یہ ادارہ کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہیں اور نہ ہی اس سے حاصل ہونے والا نفع کسی کی جیب میں جاتا ہے بلکہ یہ ادارہ دین کی اشاعت کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ بینوا تو توجروا ۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

ناشریا وارث کے لیے حق طباعت کامطالبہ کرناجائز

کتاب کا حقِ طباعت آج کل مال کے درجے میں آچکا ہے اس لیے اگر کتاب کے ناشر یا وارث نے حق طباعت اپنے لیے مخصوص یا محفوظ کرلیا ہو مثلاً کتاب میں ’’جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ‘‘ لکھا ہو، یا اس طرح کا کوئی جملہ درج ہو یا وہاں کا عرف شاہد ہو، یا زبانی پہلے سے بتا دیا ہو تو اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے شخص کا ادارہ کو ایسی کتاب کی طباعت روا نہ ہوگی  ۔ اور اگر کتاب طبع کرالی تو ناشر یا وارث اپنے مخصوص حقِ طباعت کا معاوضہ لے سکتا ہے ۔ صورت مسئولہ میں جب مصنف کے بیٹے یہ کہتے ہیں کہ ’’اس کتاب کے حقوق میرے پاس ہیں‘‘ اور اس وجہ سے وہ کچھ معاوضہ طلب کرتے ہیں تو تراضی طرفین سے کچھ مناسب معاوضہ متعین کرکے دے دیا جائے۔ انھیں بھی چاہیے کہ ۱۰؍ فیصد کے لیے ضد نہ کریں۔ اس نوع کے مسائل کی تفصیل و تحقیق کے لیے راقم الحروف کی کتاب ’’پگڑی کے مسائل‘‘ کا مطالعہ کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم

قبرستان میں کھیل کود کرنا

 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات