بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

غسل خانے (باتھ روم) میں پیشاب کرنے کی ممانعت

کیا نہاتے وقت غسل خانے کی نالی میں پیشاب کر سکتے ہیں؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حدیث شریف میں غسل خانے میں پیشاب کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ عام طور پر وسوسے کی بیماری اسی سے پیدا ہوتی ہے۔ البتہ اگر غسل خانے میں پانی نکلنے کا پکا بندوبست ہو اور پیشاب فوراً بہہ جائے تو گنجائش ہے، لیکن پھر بھی اس سے بچنا بہتر ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات