بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

ذاتی استعمال کی گاڑی یا سواری پر زکوٰۃ

میرے پاس ایک ذاتی گاڑی ہے جس کی مالیت 30 لاکھ ہے، کیا اس پر زکوٰۃ دینی ہو گی؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شریعت میں ذاتی استعمال کی چیزیں ‘حاجتِ اصلیہ’ میں شمار ہوتی ہیں۔ چاہے آپ کے پاس کتنی ہی مہنگی گاڑی، گھر کا فرنیچر یا رہائشی مکان ہو، جب تک وہ ذاتی استعمال کے لیے ہے اور بیچ کر نفع کمانے کی نیت نہیں، ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات