بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

ڈراپ شپنگ (Dropshipping) کا کاروبار اور شرائط

کیا علی ایکسپریس یا ایمازون پر ڈراپ شپنگ کا کاروبار جائز ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عام ڈراپ شپنگ میں انسان وہ چیز آگے بیچتا ہے جس کا وہ مالک نہیں ہوتا اور نہ اس کے قبضے میں ہوتی ہے، جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔ اس کو جائز کرنے کی دو صورتیں ہیں: 1) آپ خریدار کے نمائندے (Agent) بن کر مقررہ فیس پر کام کریں، یا 2) ‘بیعِ سلم’ (ایڈوانس پیمنٹ) کی شرائط پوری کر کے سودا کریں۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات