بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-376 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اگر آپ اپنے ڈیبٹ کارڈ (جس میں آپ کے اپنے پیسے ہوں) سے ادائیگی کرتے ہیں اور کمپنی خوشی سے کچھ رقم واپس کرتی ہے تو یہ ڈسکاؤنٹ/انعام ہے اور جائز ہے۔ لیکن اگر کریڈٹ کارڈ (قرض) کے استعمال پر کیش بیک ملے تو وہ قرض پر ملنے والا فائدہ ہے، جو کہ سود کے زمرے میں آتا ہے اور ناجائز ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ