بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

کمیشن ایجنٹ کا کام اور اس کی اجرت کی شرعی حیثیت

پراپرٹی ڈیلر یا کمیشن ایجنٹ بن کر دو پارٹیوں کے درمیان سودا کروا کر اپنا کمیشن لینا جائز ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جی ہاں، کمیشن ایجنٹ یا بروکر کا کام شریعت میں ‘دلالت’ (دلالی) کہلاتا ہے۔ اگر وہ فریقین کو کوئی دھوکہ نہ دے اور سودا طے کرانے کی پہلے سے ایک مقررہ فیس یا فیصد (Percentage) طے کر لے تو اس کی یہ محنت اور اس پر ملنے والا کمیشن بالکل حلال ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات