جی ہاں، اصولِ شرع کے مطابق انسان اپنے اصول (والدین، دادا دادی) اور فروع (اولاد، پوتے پوتیاں) اور میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ ان کے علاوہ دیگر مستحق رشتہ داروں (جیسے بھائی، بہن، چچا، خالہ) کو زکوٰۃ دینا بالکل جائز ہے، بلکہ غریب رشتہ دار کو دینے میں دوہرا اجر ہے (ایک زکوٰۃ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا)۔ بہن کو بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ ہے۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-518 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اظہر علیمی
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-518
تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن
شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں
اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں: