لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

ادھار بیچنے پر نقد سے زیادہ قیمت وصول کرنا

ایک موبائل نقد 20 ہزار کا ہے لیکن قسطوں پر (ادھار) 25 ہزار کا بیچا جاتا ہے، کیا یہ سود ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

قسطوں پر یا ادھار بیچنے کی صورت میں نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت مقرر کرنا جائز ہے، یہ سود نہیں بلکہ تجارت ہے۔ شرط یہ ہے کہ سودا طے کرتے وقت کوئی ایک قیمت (نقد والی یا ادھار والی) فائنل کر لی جائے اور بعد میں تاخیر پر کوئی اضافی جرمانہ (Penalty) نہ لگایا جائے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-402 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

تجارت کے مسائل