لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

ڈراپ شپنگ (Dropshipping) کا کاروبار اور شرائط

کیا علی ایکسپریس یا ایمازون پر ڈراپ شپنگ کا کاروبار جائز ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عام ڈراپ شپنگ میں انسان وہ چیز آگے بیچتا ہے جس کا وہ مالک نہیں ہوتا اور نہ اس کے قبضے میں ہوتی ہے، جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔ اس کو جائز کرنے کی دو صورتیں ہیں: 1) آپ خریدار کے نمائندے (Agent) بن کر مقررہ فیس پر کام کریں، یا 2) ‘بیعِ سلم’ (ایڈوانس پیمنٹ) کی شرائط پوری کر کے سودا کریں۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-377 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

تجارت کے مسائل