مہر کی اقل مقدار گرام کے اعتبار سے
مذہب اسلام میں کم سے کم مہر کی مقدار دس درہم چاندی ہے جس کی صراحت حدیث پاک اور کتب فقہ میں موجود ہے۔ سنن دار قطنی وغیرہ میں ہے :
” عَنْ جَابِرٍ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لا صداق دون عشرة دراهم۔”
ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مہر دس درہم سے کم نہیں ۔ [ سنن دار قطنی: رقم الحدیث: ٣٥٤٦، کتاب النکاح باب المھر ، مطبوعه مؤسسة الرساله، بیروت]
فتاوی رضویہ میں ہے:” کم سے کم مہر دس ہی درہم ہے۔”اھ
[ الفتاویٰ الرضویة :ج:١٢، ص:١٦٢، رضا فاؤنڈیشن، لاہور]
اسی میں ایک مقام پر ہے:” مہر شرعی کی کوئی تعداد مقرر نہیں، صرف کمی کی طرف حد معین ہے کہ دس درہم سے کم نہ ہو اور زیادتی کی کوئی حد نہیں، جس قدر باندھا جائے گا لازم آئے گا۔”اھ
[ الفتاویٰ الرضویة :ج:١٢، ص:١٦٥، رضا فاؤنڈیشن، لاہور]
فتاوی فیض الرسول میں ہے: دس درہم چاندی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ کے برابر ہوتی ہے، لہٰذا اتنی چاندی نکاح کے وقت بازار میں جتنے کی ملے کم سے کم اتنے روپے کا مہر ہوسکتا ہے، اس سے کم نہیں ہوسکتا۔”اھ
[ فتاوی فیض الرسول:ج:١، ص:٧١٢، شبیر برادرز، لاہور]
دس درہم چاندی کا وزن گرام کے اعتبار ہے۔
کم سے کم مہر یعنی دس درہم چاندی کا وزن گرام کے لحاظ سے ٣٢ گرام ٦٥٩ ملی گرام ہے جو کہ تقریبا پونے ٣٣ گرام ہوتا ہے۔ لھذا بوقت نکاح کم سے کم مہر پونے ٣٣ گرام چاندی یا اس کی قیمت متعین کرنا ضروری ہوگا۔
کم سے کم مہر کی مقدار گرام کے اعتبار سے کتنی ہوتی ہے اس کے متعلق
سراج الفقہا کی دینی مجالس میں ہے:
” مہر کی کم سے کم مقدار شرعا دس درہم ہے یعنی ٣٢ گرام ٦٥٩ ملی گرام چاندی” اھ
[ سراج الفقہا کی دینی مجالس: ص :٩٤، کتاب النکاح]
منتخب فتوے میں ہے:
” دس درہم ( مہر کی اقل مقدار )ساڑ سے اکتیس ماشے یعنی دو تولے ساڑھے سات ماشے۔ بتیس گرام چھ سو انسٹھ ملی گرام اور پانچواں ٹکڑا۔٣٢.٦٦٥٢= ٣٢.٦٥٩.١/٥۔یعنی تقریبا پونے ٣٣ گرام۔
[ منتخب فتوی :ص:٢٤]
آج بتاریخ ١٧ جمادی الاولی ١٤٤٨ھ کے لحاظ سے ایک گرام چاندی کا ریٹ ٢٢٠ روپیے ہے تو پونے ٣٣ گرام کا ریٹ تقریبا سات ہزار دو پانچ ( ٧٢٠٥ ) روپیے ہوں گے۔واللہ تعالی اعلم
(٢) دس درہم سے کم مہر متعین کیا تو نکاح تو ہو جائے گا لیکن تب بھی کم سے کم دس درہم چاندی یا اس کی قیمت ادا کرنا لانا ضروری ہوگا۔بہارِ شریعت میں ہے:
” نکاح میں دس ۱۰ درہم یا اس سے کم مہر باندھا گیا ،تو دس ۱۰ درہم واجب اور زیادہ باندھا ہو تو جو مقرر ہوا واجب۔” اھ
[ بہارِ شریعت:ج:٢، ص:٦٥، ط: مکتبۃ المدینہ، کراچی]
فقیہ ملت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ ” اگر کسی نے تین روپیہ سوا دس آنہ مہر مقرر کیا تو اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: تین روپیہ سوا دس آنہ مہر کی اقل مقدار دس درم چاندی کی قیمت کو نہیں پہنچتا لہذ ا صورت مسئولہ میں ایسے شخص پر دس درہم چاندی یا اس کی قیمت دینا واجب ہوگا۔”اھ
[ فتاوی فقیہ ملتانی: ج:١، ص:٤١٧، باب المہر]واللہ تعالی اعلم
شب ١٧ جمادی الاولی١٤٤٨ھ مطابق ٢٩ اکتوبر٢٠٢٦ء بوقت ١٢: ٨۔