لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

ولی (والد) کی اجازت کے بغیر نکاح (Court Marriage)

کیا لڑکی کا اپنے والدین کی اجازت اور مرضی کے بغیر کورٹ میرج کرنا شرعاً درست ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

فقہ حنفی کے مطابق عاقلہ اور بالغہ لڑکی اگر اپنے ہم کفو (برابر کے اسٹیٹس والے) لڑکے سے والدین کی اجازت کے بغیر دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر لے، تو شرعاً نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ لیکن خاندان اور ولی کی رضا کے بغیر ایسا کرنا سخت ناپسندیدہ، بے حیائی، اور معاشرتی بگاڑ کا سبب ہے جس کی اسلام میں حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ احادیث میں ولی کی اجازت کی بہت تاکید ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اظہر علیمی
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-522 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

نکاح کے مسائل