لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
05 اکتوبر 2026

دو سگی بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا کیسا ہے اور ایسے شخص کی امامت کا کیا حکم ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع
اس مسئلہ میں کہ زید سُنّی صحیح العقیدہ ہونے کے باوجود دو سگی بہنوں کو (ہندہ و راشدہ) اپنے عقد میں رکھے ہوئے ہے
اور بکر اُس کے گاؤں کی مسجد کا امام ہے
تُو اب بکر کا ایسی صورت میں
اس کے گھر کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا اور اس سے کلام کرنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

دو سگی بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا کیسا ہے اور ایسے شخص کی امامت کا کیا حکم ہے؟

دوسگی بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا حرام ہے، زید جو کہ دو سگی بہنوں کو اپنے عقد میں رکھے ہوئے ہے ظالم وجفاکار، حرام کار سخت فاسق وفاجر ہے۔اس کی بیوی وہی بہن ہے جس سے پہلے نکاح ہوا اس پر لازم اور فرض ہے کہ دوسری بہن جس سے نکاح کیا اس سے علاحدہ ہو جائے اور اس دوسری بہن پر بھی لازم ہے کہ اس سے علاحدہ ہوجائے، جب تک یہ بیوی کی دوسری بہن کو الگ کرکے علانیہ توبہ و استغفار نہ کرلے بکر(امام مسجد) اور دیگر مسلمان زید کے گھر کھانے پینے،اٹھنے بیٹھنے اور اس کے ساتھ بات چیت وغیرہ کرنے سے ضرور بالضرور احتراز کریں اور اگر اس کے فعل سے راضی ہوکر اس کے ساتھ تعلقات رکھیں گے تو وہ سب بھی گنہگار ہوں گے۔
فتاوی فیض الرسول میں اسی طرح کے سوال کے جواب میں ہے: “ایک مرد کا دو سگی بہنوں کو بیک وقت رکھنا سخت ناجائز وحرام ہے آیت محرمات میں ہے “وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ” یعنی دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ لہذا چھوٹے بھائی پر واجب ہے کہ فوراً بڑے بھائی کی بیوہ عورت کو اپنے سے الگ کردے اور علانیہ توبہ و استغفار کرے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو تمام مسلمان اس کے ساتھ کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، سلام وکلام اور ہر قسم کے اسلامی تعلقات ختم کردیں۔ اگر مسلمان ایسا نہ کریں گے تو وہ بھی گنہگار ہوں گے”(ج ۱ ص ۵۹۴/ناشر:دار الاشاعت فیض الرسول براؤں شریف)واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب

۲۸/ربیع الآخر ۲۴۵۷ھ مطابق ۲۲/اکتوبر ۲۰۲۵ء

الجواب صحیح:محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد ارشاد رضا علیمیؔ غفرلہ خادم دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-3080 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

نکاح کے مسائل