بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

ٹیلیفون یا ویڈیو کال پر نکاح کا شرعی حکم

लड़का विदेश में है، کیا ٹیلیفون یا ویڈیو کال کے ذریعے براہ راست نکاح ہو سکتا ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نکاح درست ہونے کے لیے ایجاب و قبول (مرد و عورت) اور دو گواہوں کا ایک ہی مجلس میں موجود ہونا شرط ہے۔ فون یا ویڈیو کال پر چونکہ مجلس ایک نہیں ہوتی، اس لیے براہ راست نکاح درست نہیں۔ اس کا جائز طریقہ یہ ہے کہ لڑکا فون پر لڑکی کے ملک میں کسی (مثلاً اپنے والد یا دوست) کو اپنا وکیل بنائے، پھر وہ وکیل گواہوں کے سامنے لڑکے کی طرف سے ایجاب و قبول کرے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات