لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
05 اکتوبر 2026

وراثت میں بیٹیوں کا حق ہے یا نہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علماے کرام ومفتیان شرع مسئلہ ذیل میں بقول سائل کے مجھے کوئی بیٹا نہیں ہے، بیٹیاں ہی ہیں، آیا بیٹیاں باپ کی وراثت کی حقدار ہیں یا نہیں، سائل نے اپنے رشتہ داروں سے معلوم کیا، تو انہوں نے بتایا کہ باپ کی زمین جائیداد سے بیٹیاں حصہ نہیں لے سکتیں، لہذا گزارش ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب ارشاد فرمائیں کہ بیٹیاں باپ کی جاگیر دار بن سکتی ہیں یا نہیں؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

وراثت میں بیٹیوں کا حق ہے یا نہیں ؟

بیٹاں باپ کی جائیداد کی حقدار ہوں گی،لیکن یاد رہے کہ کسی کی وراثت کی جو تقسیم ہوتی ہے وہ اس کی موت کے بعد ہوتی ہے کیونکہ تقسیم میراث کا تعلق مورث کی موت کے بعد سے ہے زندگی میں کوئی شخص اپنی اولاد کو جو چیز ہبہ کرنا چاہیے کرسکتا ہے،البتہ اس میں(ہبہ کرنے میں) بہتر یہ ہے کہ سب کو برابر برابر دے، ہاں اگر اولاد میں کوئی فضل دینی دوسروں سے زیادہ رکھتا ہو تو اسے باقی سے زیادہ حصہ دینے میں حرج نہیں۔

فرمان باری تعالیٰ ہے: "یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ-وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ-وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ-فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُۚ-فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًاؕ-فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا”

اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو – پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہائی پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی توماں کا چھٹا بعد اس وصیت کے جو کر گیا اور دَین کے تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بے شک اللہ علم والا حکمت والا ہے۔(پارہ ۴ سورۃ النساء/آیت نمبر:۱۱)

نیز فرمان باری تعالیٰ ہے:لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَؕ-نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا”مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا(پارہ ۴ سورۃ النساء/آیت نمبر:۷)

اس آیت مبارکہ کے متعلق علامہ ڈاکٹر عاصم اعظمی حفظہ اللہ تعالی لکھتے ہیں: "اس آیت سے معلوم ہوا کہ میراث صرف مردوں کا حصہ نہیں بلکہ عورتیں بھی اس کی حقدار ہیں، میراث کی تقسیم لازمی امر ہے،وراثت کا قانون ہر قسم کے اموال واملاک پر جاری ہوگا۔ خواہ وہ منقولہ ہوں یا غیر منقولہ زرعی ہوں یای صنعتی یا کسی دوسرے صنف مال سے تعلق رکھتے ہوں مال مالک کی موت کے بعد ہی میراث ہوتا ہے”(تفہیم الفرائض ص ۱۹/ناشر:دائرۃ المعارف الامجدیہ گھوسی ضلع مئو یوپی) اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان اپنی زندگی میں بیٹے، بیٹیوں میں مال تقسیم کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: ” صورت مستفسرہ میں مذہب مفتیٰ بہ پر افضل یہی ہے کہ بیٹوں بیٹیوں سب کو برابر دے، یہی قول امام ابویوسف کا ہے اور﴿ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ﴾دینا بھی جیسا کہ قول امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کاہے ، ممنوع وناجائز نہیں، اگر چہ ترکِ اولی ہے۔

ردالمحتار میں علامہ خیرالدین رملی سے ہے:”الفتوی علی قول أبی یوسف من أن التنصیف بین الذکر والأنثی أفضل من التثلیث الذی ھو قول محمد” فتوی امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالی کے قول پر ہے کہ مرد اور عورت کو نصف نصف دینا، مرد کو دو اور عورت کو ایک ، تین حصے بنانے سے بہتر ہے اور یہ تین حصے امام محمد رحمہ اللہ تعالی کا مذہب ہے ۔حاشیۂ طحطاوی میں فتاوی بزازیہ سے ہے:”الأفضل فی ھبۃ البنت و الابن التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھو المختار” بیٹی اور بیٹے کو ہبہ دینے میں تین حصے میراث کے طورپر افضل ہے اور امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک نصف نصف دینا افضل ہے اور یہی مختار ہے۔
بالجملہ خلاف افضلیت میں ہے اور مذہب مختار پر اولیٰ تسویہ، ہاں اگر بعض اولاد فضلِ دینی میں بعض سے زائد ہو، تو اس کی ترجیح میں اصلاً باک نہیں”(فتاوی رضویہ ج ۱۹ ص ۲۳۱/رضا فاؤنڈیشن لاہور)والله تعالیٰ أعلم بالصواب

۱۱/جمادی الاولی ۱۴۴۷ھ مطابق ۳/نومبر ۲۰۲۵ء

الجواب صحیح:محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد ارشاد رضا علیمیؔ غفرلہ خادم دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-3082 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

وراثت و وصیت کے مسائل