بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-523 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
والدین کے لیے اپنی زندگی میں بچوں کو تحفہ، پیسے یا جائیداد دینے میں ‘عدل و برابری’ کرنا واجب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو’۔ زندگی میں دیے گئے تحفے میں لڑکے اور لڑکی کا حصہ برابر ہوتا ہے (وراثت کی طرح لڑکے کا دگنا نہیں ہوتا)۔ البتہ کسی بچے کے بیمار یا معذور ہونے کی وجہ سے ضرورت کے تحت زیادہ دینا جائز ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ