بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

بچوں کے درمیان تحائف دینے میں برابری

کیا والدین زندگی میں اپنی جائیداد یا تحفہ کسی ایک بچے کو زیادہ دے سکتے ہیں؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

والدین کے لیے اپنی زندگی میں بچوں کو تحفہ، پیسے یا جائیداد دینے میں ‘عدل و برابری’ کرنا واجب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو’۔ زندگی میں دیے گئے تحفے میں لڑکے اور لڑکی کا حصہ برابر ہوتا ہے (وراثت کی طرح لڑکے کا دگنا نہیں ہوتا)۔ البتہ کسی بچے کے بیمار یا معذور ہونے کی وجہ سے ضرورت کے تحت زیادہ دینا جائز ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات