بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-449 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شریعتِ اسلامیہ میں ‘عاق’ (وراثت سے محروم) کرنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اولاد چاہے کتنی ہی نافرمان، فاسق یا کافر ہی کیوں نہ ہو، محض اخبار میں اشتہار دینے سے اس کا شرعی حصہ ختم نہیں ہوتا۔ البتہ باپ اپنی زندگی میں اپنی جائیداد بیچ کر یا ہبہ (گفٹ) کر کے تصرف کر سکتا ہے، لیکن موت کے بعد نافرمان اولاد کا حصہ وراثت میں باقی رہے گا۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ