لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
01 اکتوبر 2026

پانچ بیٹے دو بیٹیاں اور تین بہنوں میں وراثت کیسے تقسیم ہوگی

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ مرحوم کے پانچ بیٹے دو بیٹیاں اور تین بہنیں ہیں۔ 
ورثے میں دس لاکھ پینتالیس ہزار روپے ہے۔
ہر ایک کے حصے میں کتنی کتنی رقم ہوگی؟
جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

صورۃ مسولہ میں بعد تقدیم ما تقدم الارث مرحوم موصوف کے منقولہ و غیر منقولہ کل جائیداد 12 حصوں میں تقسیم ہوگا۔

جن میں دو دو پانچوں بیٹوں اور ایک ایک دونوں بیٹیوں کو ملے گا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔

للذکر مثل حظ الاثنین (سورہ النساء آیت 11)

اور جب مرحوم موصوف کے بیٹے اور بیٹیاں موجود ہیں تو بہنیں اپنے بھائی کی وراثت سے محروم و محجوب رہیں گی۔

جیسا کہ بہار شریعت میں فتاوی عالمگیری کے حوالے سے مرقوم ہے۔ ماں شریک بھائی یا بہن میت کے بیٹا بیٹی پوتا پوتی( نیچے تک) باپ یا دادا کے ہوتے ہوئے محروم ہو جائیں گے۔

( بہار شریعت حصہ 20 صفحہ نمبر 1191)

جیسا کہ ذیل کے نقشے میں مذکور ہے۔

بیٹا2 بیٹا2 بیٹا2 بیٹا2 بیٹا2 بیٹی1 بیٹی1 بہن م بہن م بہن م

مذکورہ رقم میں سے 174166.67ہر ایک لڑکوں کو اور 87083.33 روپئے ہر ایک لڑکیوں کو ملے گا۔

کتبہ محمد مجیب اللہ الرضوی۔

ڈالٹن گنج ضلع پلاموں جھارکھنڈ

16/ربیع الثانی 1447ھ/..9/اکتوبر 2025ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد مجیب اللہ رضوی
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-3026 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

وراثت و وصیت کے مسائل