دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2428
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
جائیداد کی تقسیم کا شرعی حکم کیا ہے ؟ / مسائل ورلڈ
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
10,195
سوال (Question):
جائیداد کی تقسیم کا شرعی حکم کیا ہے ؟ / مسائل ورلڈ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جائیداد کی تقسیم کا شرعی حکم کیا ہے ؟
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہ سوال بہت مجمل ہے اور بہت تفصیل طلب ہے ، مختصر یہ کی باپ کبھی جائیداد کی تقسیم اپنی زندگی میں کرتا ہے، کبھی اس کی وفات کے بعد وارثین کرتے ہیں، باپ اگر اپنی زندگی میں اپنی اولاد میں تقسیم کرے تو حکم یہ ہے کہ لڑکی اور لڑکے سب کو برابر تقسیم کرے کسی کو کم اور زیادہ نہ دے ۔ ارشاد رسالت ہے: “فاتقوا الله، واعدلوا بين اولادكم.” اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں برابری کرو ۔ یہ افضل ہے اور یہ بھی جائز ہےکہ جتنا لڑکے کو دے اس کا نصف یعنی آدھا لڑکی کو دے ۔ اور اگر باپ کا انتقال ہو گیا اور اس نے اپنے اولاد میں صرف لڑکوں کو چھوڑا ہے ، بیوی اور بیٹی وغیرہ اس کا کوئی وارث نہیں تو ایسی صورت میں ہم یہ حقیقت ترکہ میں جو بھی مال ہے وہ میت کے حقوق کی ادائیگی کے بعد ان کے درمیان برابرتقسیم ہوگا۔ اور اگر بیٹوں کے ساتھ بیٹی ہے ، تو بٹوارہ اس طور پر ہوگا کہ ہر لڑکے کو جتنا ملے گا لڑکی کو اس کا آدھا ملے گا۔ اور اگر ان کے ساتھ ماں ،باپ بھی ہوں تو تقسیم کی صورت بدل جائے گی ۔ آسان راستہ یہ ہے کہ جب کبھی جائیداد کی تقسیم کی حاجت در پیش ہو تو قریبی دارالافتا سے رجوع کرکے وارثوں کے حصے معلوم کرلیں ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat