لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

یوٹیوب (YouTube) چینل سے کمائی کا شرعی حکم

کیا یوٹیوب پر ویڈیوز اپلوڈ کر کے جو آمدنی ہوتی ہے وہ حلال ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

یوٹیوب سے کمائی کے حلال ہونے کی دو شرائط ہیں: 1) ویڈیو کا مواد (Content) شرعاً جائز ہو، اس میں موسیقی، بے پردہ خواتین، یا جھوٹ نہ ہو۔ 2) ویڈیو پر چلنے والے اشتہارات (Ads) بھی حلال چیزوں کے ہوں (جیسے شراب، جوئے یا فحاشی کے اشتہارات نہ ہوں)۔ چونکہ عموماً یوٹیوب کی ایڈ پالیسی مکمل کنٹرول میں نہیں ہوتی، اس لیے احتیاط ضروری ہے، غیر شرعی ایڈز کی کمائی صدقہ کرنا لازم ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-507 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

جائز وناجائز حلال وحرام