دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #500
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
پرائز بانڈ کے انعام کا حکم
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
8,824
سوال (Question):
کیا حکومت کی طرف سے ملنے والے پرائز بانڈ کا انعام حلال ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
پرائز بانڈ کی اصل رقم جو آپ نے دی ہوتی ہے وہ محفوظ رہتی ہے، اس لیے یہ جوا (Gambling) تو نہیں، لیکن حکومت ان جمع شدہ رقوم کو سودی کاموں میں استعمال کر کے اس کے منافع سے انعام دیتی ہے، اس لیے شرعاً یہ انعام سود کے زمرے میں آتا ہے اور اس کا استعمال قطعی حرام ہے۔ اگر انعام نکل آئے تو اسے بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں پر صدقہ کرنا واجب ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
Recent Fatawa
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
Read Fatwa
19
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
10
مجھے بہت جلدی اور شدید غصہ آتا ہے، کیا پڑھوں؟
Read Fatwa
29
رزق اور کاروبار میں برکت کی دعا
Read Fatwa
5166
امتحان یا انٹرویو میں کامیابی کی مسنون دعا
Read Fatwa
5061