لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

پرائز بانڈ کے انعام کا حکم

کیا حکومت کی طرف سے ملنے والے پرائز بانڈ کا انعام حلال ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پرائز بانڈ کی اصل رقم جو آپ نے دی ہوتی ہے وہ محفوظ رہتی ہے، اس لیے یہ جوا (Gambling) تو نہیں، لیکن حکومت ان جمع شدہ رقوم کو سودی کاموں میں استعمال کر کے اس کے منافع سے انعام دیتی ہے، اس لیے شرعاً یہ انعام سود کے زمرے میں آتا ہے اور اس کا استعمال قطعی حرام ہے۔ اگر انعام نکل آئے تو اسے بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں پر صدقہ کرنا واجب ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-500 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

جائز وناجائز حلال وحرام