لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
25 اکتوبر 2026

قبرستان کے اوپر سے راستہ بنانا یا سرکاری روڈ بنانا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہمارے محلے میں ایک سڑک نکل رہی ہے اب جو سروےہوا ہے اس میں ایک بہت ہی پرانا قبرستان آ رہا ہے جو کہ محلہ برہون کے وارڈ نمبر تین میں واقع ہے کچھ لوگ بضد ہیں کہ سڑک قبرستان سے ہو کر جائے جو کہ مسلمان ہیں اور یہ سڑک بھی محلے کی سڑک ہے اب پوچھنا یہ ہے کیا قبرستان کے اوپر سے سڑک گزار سکتے ہیں یا نہیں اور جو لوگ بضد ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے اگر وہ نہ مانے تو باقی مسلمانوں کے بارے میں کیا حکم ہے وہاں ساری مسلم ٓبادی ہے۔قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

قبرستان کے اوپر سے راستہ بنانا یا سرکاری روڈ بنانا کیسا ہے ؟

قبرستان میں سڑک نکالنا اور گاڑیاں گزارنا سخت منع ہے اس میں قبور مسلمین کی توہین وبے ادبی ہے، جو لوگ قبرستان سے سڑک نکالنے پر بضد ہیں وہ مردوں کے دشمن، ظالم وجفار، مستحق قہر قہار وعذاب نار ہیں، ان پر لازم ہے کہ بارگاہ رب العزت میں توبہ صادقہ کرکے بری حرکتوں سے باز آئیں ورنہ مسلمان ان سے ہر طرح کا بائیکاٹ کریں اور قبرستان سے سڑک نہ نکل پانے کے سلسلے میں ہر ممکن کوشش کریں۔
حدیث شریف میں ہے:(۱) حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: "لأن أمشی على جمرة أوسیف، أوأخصف نعلي برجلي، أحب إلى من أن أمشی علی قبر مسلم” البتہ چنگاری یا تلوار پر چلنا یا جوتا پاؤں سے گانٹھنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ کسی مسلمان کی قبر پر چلوں۔(سنن ابن ماجۃ/ کتاب الجنائز/باب ما جاء في النھی عن المشي علی القبور والجلوس علیھا/۳٦٦/رقم الحديث:۱۵٦۷/بیروت، لبنان)(۲)حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: "لأن اطاء علی جمرۃ أحب الی من أن أطاء علی قبر رجل مسلم”بے شک مجھے آگ پر پاؤں رکھنا زیادہ پیارا ہے کسی مسلمان شخص کی قبر پر پاؤں رکھنے سے۔(المعجم الکبیر للطبرانی/الجزء التاسع/۳۷۳/رقم الحدیث:۹٦۰۵/الناشر: مکتبۃ ابن تیمیۃ، القاھرۃ) (۳) انہی صحابی اجل سے کسی نے قبر پر پاؤں رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: "کما أکرہ أذی المؤمن فى حياته فانى أكره أذاه بعد موته "میں جس طرح مسلمان کی ایذا اس کی زندگی میں مکروہ جانتا ہوں یونہی بعد موت اس کی ایذا کو ناپسند کرتا ہوں۔(شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور/۳۰۰/باب تأذیه بسائر وجوه الأذى/مطبعة المدنى،القاهرة)
اعلی حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں: "قبور مسلمین پر چلنا جائز نہیں، بیٹھنا جائز نہیں، ان پر پاؤں رکھنا جائز نہیں۔ یہاں تک کہ ائمہ نے تصریح فرمائی کہ قبرستان میں جو نیا راستہ پیدا ہوا ہو اس میں چلنا حرام ہے”(فتاوی رضویہ قدیم، ج ۴، ص ۱۰۸/دار العلوم امجدیہ، آرام باغ روڈ کراچی)
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان سے اسی طرح کا سوال ہوا کہ”قبرستان میں رہنے کے لیے مکان بنانا کیسا ہے؟ اور اس میں بیت الخلاء کے گندے نالے بھی نکالے جارہے ہیں اور عام راستہ بھی اسی میں ہے جب کہ ہم نے اپنی زندگی میں دیکھا کہ قبرستان میں کوئی جگہ قبر سے خالی نہیں ہے اور جان بوجھ کر یہ کام کیا جارہا ہے اور دنیوی تمام کام مثلاً گاڑی، بیل حتی کہ ان کے کھانے کا چارہ بھی اس میں رکھتے ہیں جبکہ پکے سنی مسلمان ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ فقط۔ والسلام” آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: ناجائز وحرام اور باقی امور مذکورہ بھی حرام اشد حرام اور اس کے مرتکب سخت گناہ گار مستوجب نار ہیں، توبہ کریں”(فتاوی تاج الشریعہ، ج ۴، ص ۵۰۵ تا ۵۰۶/ مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا متھرا پور بریلی شریف) والله تعالیٰ أعلم بالصواب

۴/جمادی الآخرہ ۱۴۴۷ھ مطابق ۲۶/نومبر ۲۰۲۵ء

الجواب صحیح
محمد نظام الدین قادری استاذ ومفتی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمیؔ غفرلہ خادم دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-3114 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

جائز وناجائز حلال وحرام