بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-355 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سوئی سے جسم گود کر اس میں رنگ بھرنا (Tattooing) شریعت میں قطعی حرام ہے۔ حدیث میں ٹیٹو بنانے والے اور بنوانے والے دونوں پر اللہ کی لعنت فرمائی گئی ہے۔ البتہ اگر کسی نے جہالت میں بنوا لیا تو اب سچی توبہ کرے، اگر ٹیٹو کے اوپر جلد برابر ہو تو وضو اور غسل ہو جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ