بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

سنتِ مؤکدہ چھوڑنے کا حکم اور گناہ

کیا وقت کی کمی کی وجہ سے سنتیں (جیسے ظہر کی چار سنت) چھوڑ سکتے ہیں؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

سنتِ مؤکدہ کو بلا عذر جان بوجھ کر چھوڑنا یا اس کی عادت بنا لینا سخت گناہ ہے اور ایسا شخص نبی کریم ﷺ کی شفاعت سے محروم ہو سکتا ہے۔ البتہ اگر کبھی اتفاقاً چھوٹ جائیں یا سفر اور شدید بیماری کا عذر ہو تو گناہ نہیں۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات