بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-514 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مسجد میں لوگوں کے کندھوں اور گردنوں کو پھلانگ کر (تخطی الرقاب) آگے جانا شرعاً مکروہِ تحریمی اور سخت گناہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو ایسا کرتے دیکھا تو فرمایا ‘بیٹھ جا، تو نے لوگوں کو تکلیف دی’۔ البتہ اگر اگلی صف میں واضح جگہ خالی ہو اور لوگ آگے نہ جا رہے ہوں تو ضرورت کے تحت آگے جانا جائز ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ