لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

عورتوں کی نماز کا مردوں سے شرعی فرق

کیا عورتوں اور مردوں کے نماز پڑھنے کے طریقے میں کوئی فرق ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جی ہاں، فقہ حنفی اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں عورتوں کی نماز کا طریقہ پردے اور سمٹنے پر مبنی ہے۔ عورتیں تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ صرف کندھوں تک اٹھائیں گی اور سینے پر ہاتھ باندھیں گی۔ رکوع میں تھوڑا جھکیں گی کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں، اور سجدے میں سمٹ کر (بازو پسلیوں سے ملا کر اور پیٹ رانوں سے ملا کر) سجدہ کریں گی۔ التحیات میں دونوں پاؤں دائیں طرف نکال کر بیٹھیں گی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اظہر علیمی
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-515 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

نماز کے مسائل