بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-430 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ستاروں، برجوں اور زائچوں کے ذریعے قسمت اور مستقبل کا حال جاننے کا دعویٰ کرنا علمِ غیب کا دعویٰ ہے جو صریح شرک ہے۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی نجومی یا کاہن کی بات پر یقین کرے، اس کا ایمان ختم ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ محض تفریح کے لیے ستاروں کا حال پڑھنا بھی گناہ ہے جس سے 40 دن کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ