بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-477 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
خالص قدرتی ریشم (Pure Silk) پہننا مردوں کے لیے شریعت میں قطعی حرام ہے، جیسے سونا حرام ہے۔ البتہ اگر کپڑے میں ریشم کی مقدار بہت کم ہو (صرف چار انگلیوں کے برابر پٹی ہو) یا وہ مصنوعی ریشم (Artificial Silk / Rayon) ہو، تو مردوں کے لیے اس کا پہننا جائز ہے۔ عورتوں کے لیے ہر قسم کا ریشم حلال ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ