بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2799 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
راکھی بندھوانا
سوال : (۱)زیدایک سیاسی شخص ہے ،اس سے اس کے ایک کافرسیاسی ساتھی (کلو)نے اپنی ماں کوجلانے کے لیے شمشان گھاٹ آنے کی دعوت دی توزید کلوکی ماں کوجلانے کے موقع پرشمشان گھاٹ پہنچا ۔ (۲)اورزیدنے راکھی تیوہارکے موقع پرسیاسی طورپرخوداپنے ہاتھ پرایک کافرہ سے راکھی بندھوائی اوردوسروں کوبھی بندھوائی۔ مذکورہ بالادونوں مسئلوں میں زیدپرکیاحکم شرعی عائدہوتاہے ؟ المستفتی:محمدامام الدین مصباحی،بردوان، بنگال ۔بسم اللہ الرحمٰن الرحیم حکم شرعی: راکھی بندھوانا
(۱)غیرمسلموں کی میت کے ساتھ جانایاشمشان گھاٹ جانا حرام وگناہ ہے کہ ایک تویہ ان کے مجمع کوبڑھاناہے ، دوسرے ان کے شعارمیں شرکت ہے ۔مذہب اسلام میں مردے کو جلانا جائز نہیںاگرچہ وہ مردہ غیرمسلم ہو۔توجومجمع اس ناجائزکام کے لیے شمشان گھاٹ جارہاہواس مجمع کو بڑھانا جائز نہیں ہوسکتا ۔ قرآن پاک میں تویہاں تک حکم ہے وَلَاتَقُمْ عَلیٰ قَبْرِہ اوران کی قبرپرنہ کھڑے ہوناپھرجہاں مردہ جلایاجارہاہوآس پاس کھڑا ہونا ضرور ممنوع ہوگا۔زیداپنے اس فعل سے توبہ کرے اورآئندہ بچے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲)راکھی بندھوانا یا باندھنا یہاں کے غیرمسلموں کاشعارمذہبی ہے اس لیے اسے پسندیدگی کے ساتھ باندھنابندھواناحرام بلکہ کفرہے ۔ زید نے اپنے ہاتھ پرراکھی بندھوائی اوردوسروں کوبھی اس کی ترغیب دی ۔ ظاہرہے کہ اس نے یہ اچھا سمجھ کرہی کیاہے اس لیے وہ اس سے توبہ کرے ،بے زاری کااظہارکرے اورکلمہ پڑھ کرداخل اسلام ہو،شادی ہو چکی ہوتونئے مہرکے ساتھ نیانکاح کرے ۔ رواداری الگ چیزہے اوران کے مذہبی امورمیں شرکت اورعمل در آمد الگ چیز۔قرآن حکیم میں ہے :لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتبہ ۔۔ مفتی نظام الدین رضوی صدر شعبہ افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پور ۔ مزید مطا لعہ کریں ۔۔۔۔۔۔اسکرٹ (skirt) بیچناکیسا ہے ۔
خطبہ جمعہ میں امام صاحب کاہاتھ میں عصا لینا
سماجی کام کرنے والے غیرمسلم ادارے میں کام کرنا کیسا
دوران حج وعمرہ تلبیہ نہ پڑھنے والے کا حکم
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ