تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے علمِ کامل سے پہلے ہی جانتا ہے کہ بندہ اپنے ارادے اور اختیار سے کیا کرے گا، اور اللہ نے وہی لکھ دیا ہے۔ اللہ کے لکھنے کی وجہ سے بندہ مجبور نہیں، بلکہ بندے نے جو اپنے اختیار سے کرنا تھا، اللہ نے وہ پہلے لکھ دیا۔ انسان کو اعمال کا اختیار دیا گیا ہے اور اسی اختیار کا حساب روزِ قیامت ہوگا۔ تقدیر پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ بھلائی اور برائی سب اللہ کی طرف سے اور اس کے علم میں ہے۔ واللہ اعلم۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-530 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-530
تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن
شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں
اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں: