لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
06 اکتوبر 2026

وہابی دیوبندی ہونے کے لئے زبان سے اقرار کرنا ضروری ہے؟

السلام علیکم و رحمۃ الله و برکاتہ
بعدہٗ سلام عرض یہ ہے کہ کیا فرماتے ہیں علماء دین شرع متین اس مسئلے کے بارے میں،
اگر کوئی سنی عالم وہابی سے میل جول رکھے اس کو روکنے پر یہ کہے کہ وہ اگر زبان سے کہے گا کہ میں وہابی ہوں تو مانا جائے گا۔
کیا ایک عالم کا اس طرح کہنا درست ہے؟
نیز یہ بھی بتا دیں کیا کبھی اشرف علی تھانوی، رشید احمد گنگوہی، اسماعیل دہلوی اور دیگر علماء سو ، نے اپنے آپ کو وہابی کہا یا لکھا؟
کیا ہمارے سنی علماء نے کتابوں میں لکھا کہ کوئی زبان سے کہے گا کہ میں وہابی ہوں تو ہی مانا جائے گا؟
شرع کی روشنی میں تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

وہابیہ ودیابنہ اپنے عقائد باطلہ و خیال فاسدہ اور انکار ضروریات دین کی وجہ سے بمطابق فتاوی علمائے حرمین شریفین اور عرب و عجم وہند و پاک کافر و مرتد ہیں۔ اور ایسے کافر کہ جو ان کے کفر و عزاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ جس کی پوری تفصیل فتاوی حسام الحرمین والصوارم الھندیہ میں موجود و مذکور ہے۔

لہذا ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، شادی بیاہ کرنا، انہیں سلام کرنا یا ان کے سلام کا جواب دینا، موت و حیات میں شریک ہونا، بیمار پڑنے کی صورت میں عیادت و تعزیت کرنا،ان کی اقداء میں نماز پڑھنا،یا کسی قسم کی رشتہ داری نبھانا ناجائز وحرام ہے۔
جیسا کہ مختلف احادیث مبارکہ میں مذکور ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔
*قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان مرضوا فلا تعودوھم وان ماتوا فلا تشھدوھم وان لقیتموھم فلا تسلموا علیھم ولا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولا تناکحوھم ولا تصلوا علیھم ولا تصلوا معھم۔*
(ماخوذ از انوار الحدیث ص ۴۵)
یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بد مذہب اگر بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اگر مر جائیں ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو، ان سے ملاقات ہو تو انہیں سلام نہ کرو، ان کے پاس نہ بیٹھو، ان کے ساتھ پانی نہ پیو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ، ان کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرو، ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو، اور نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔ اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا
*ایاکم وایاھم لا یضلونکم ولا یفتنونکم*
( مسلم شریف ج ۱ ص۱۰)
یعنی بدمذہبوں سے دور رہو اور ان کو اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کر دے اور کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دے۔
اور سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی تحریر فرماتے ہیں کہ:
یہ فرقے اور اسی طرح دیوبندی نیچری غرض جو بھی ضروریات دین سے کسی شی کا منکر ہو سب مرتد کافر ہیں۔ ان کے ساتھ کھانا پینا، سلام علیک کرنا، ان کی موت و حیات میں کسی طرح کا اسلامی برتاؤ کرنا سب حرام ہے۔(فتاوی رضویہ ج ۱۴ ص/ ۴۱۲)
لہذا مذکورہ سنی عالم وہابیوں دیوبندیوں سے میل جول رکھنے کی وجہ سے سخت گنہگار ہوا اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرے اور وہابیوں اور دیگر فرقے باطلہ سے میل جول رکھنے سےاجتناب واحتراز کرے۔
اور اس کا یہ کہنا کہ اگر زبان سے کہے گا کہ میں وہابی ہوں تو مانا جائے گا صحیح و درست نہیں ہے۔
۲/علمائے دیوبند اور دیگر علمائے سو نے اپنے آپ کو وہابی، سخت وہابی، بڑے وہابی ہونے کا فخریہ اقرار کیا جو ان کی کتاب میں مذکورو مرقوم ہے۔
مولوی رشید احمد گنگوہی نے ایک سوال کی جواب میں تحریر فرمایا کہ:
محمد بن عبدالوہاب کے مقتدیوں کو وہابی کہتے ہیں ان کے عقائد عمدہ تھے۔
( فتاوی رشدیہ کامل ص/ ۲۹۲)
مولوی اشرف علی تھانوی نے ایک موقع پر سنی مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ:
بھائی یہاں وہابی رہتے ہیں۔ فاتحہ درود کے لیے کچھ مت لایا کرو۔( اشرف السوانح ج ۱ص/ ۸۴)
مولانا منظور نعمانی نے اپنے بارے میں ایک موقع پر کہا: اور ہم خود اپنے بارے میں صفائی سے عرض کرتے ہیں کہ ہم بڑے سخت وہابی ہیں۔ (سوانح مولانا محمد یوسف ص ۲۰۲)
مولانا زکریا نے مولانا نعمانی کو مخاطب کر کے کہا کہ: مولوی صاحب! میں خود تم سے بڑا وہابی ہوں۔ (سوانح مولانا محمد یوسف ص۲۰۴)(ماخوذ از تبلیغی جماعت ص ۱۰۱/شریعت ص ۴۳ مؤلف مناظر اہل سنت حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ)
۳/اور ہمارے سنی علماء نے کبھی یہ نہیں کہا کہ جو اپنی زبان سے اپنی وہابیت کا اقرار کرے صرف اسے ہی وہابی مانا جائے گا باقی کو نہیں بلکہ جو اللہ ورسول کی شان میں گستاخی کرے یا گستاخی کرنے والوں کو اچھا سمجھے نیز باطل عقیدہ رکھے اور ضروریات دین میں سے کسی شی کا انکار کرے۔ اور معمولات اہل سنت کی مخالفت کرے اور انہیں شرک و بدعت سے تعبیر کرے۔ اور ناجائز و حرام کا حکم لگائے۔ تو وہ اگرچہ اپنی زبان سے اپنی وہابیت کا اقرار نہ کرے لیکن شریعت کی نظر میں وہ بدمذہب، بدعقیدہ، کافر و مرتد، وہابی و دیوبندی اور خارج اسلام ہے۔
نیز ہمارے اکابر علماء نے یہ بھی بتایا کہ جس شخص کے بارے میں شک و شبہ ہو کہ یہ سنی ہے یا وہابی، دیوبندی تو ایسے لوگوں کو علمائے دیوبند کے کفریہ عبارات ان کی کتابوں سے پڑھ کر سنائیں اور سننے کے بعد اسے اچھا سمجھے یا خاموش رہے تو اس کا شمار وہابی و دیوبندی اور بد عقیدہ و بد مذہب میں ہوگا۔ اور اس سے اسلامی راہ و رسم رکھنا ناجائز و حرام ہوگا۔
اور اگر ان عبارات کو باطل سمجھے اور ان کے قائل کو کافر و مرتد گردانے تو اس پر وہابی دیوبندی کا حکم نہیں لگایا جائے گا بلکہ اسے سنی تصور کیا جائے گا اور اس سے اسلامی راہ و رسم رکھنا جائز صحیح ہوگا۔
۲۵/ ربیع الثانی ۱۴۴۸ھ ۶/اکتوبر ۲۰۲۶ء بروز منگل۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: الفقیر محمد مجیب اللہ الرضوی۔ خادم التدریس والافتاء مدرسہ غوثیہ رضویہ ڈالٹن گنج ضلع پلاموں جھارکھنڈ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-3105 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

اسلامی عقائد