محض زیادہ خوبصورت نظر آنے کے لیے (کاسمیٹک وجوہات کی بنا پر) پلاسٹک سرجری، بوٹاکس، یا ہونٹوں کو موٹا کروانا ‘تغییر خلق اللہ’ (اللہ کی تخلیق کو بدلنے) میں آتا ہے اور یہ شرعاً حرام ہے۔ البتہ اگر کسی حادثے کی وجہ سے کوئی عضو کٹ جائے، جل جائے، یا پیدائشی نقص ہو جس سے دیکھنے میں شدید کراہت محسوس ہوتی ہو، تو اسے درست حالت میں لانے کے لیے سرجری کروانا بالکل جائز ہے۔ واللہ اعلم۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-531 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-531
تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن
شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں
اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں: