بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-439 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
نماز میں سر ڈھانپنا (ٹوپی یا عمامہ پہننا) سنتِ مستحبہ اور آدابِ نماز میں سے ہے۔ اگر کوئی شخص سستی یا غفلت کی وجہ سے ننگے سر نماز پڑھتا ہے تو یہ مکروہِ تنزیہی (ناپسندیدہ) ہے، البتہ نماز ہو جائے گی۔ اگر خشوع و خضوع اور عاجزی کی نیت سے ننگے سر پڑھے تو جائز ہے۔ لیکن آج کل فیشن کے طور پر اسے عادت بنا لینا درست نہیں۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ