بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

ننگے سر نماز پڑھنے کا شرعی حکم

کیا ٹوپی کے بغیر ننگے سر نماز پڑھ سکتے ہیں؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نماز میں سر ڈھانپنا (ٹوپی یا عمامہ پہننا) سنتِ مستحبہ اور آدابِ نماز میں سے ہے۔ اگر کوئی شخص سستی یا غفلت کی وجہ سے ننگے سر نماز پڑھتا ہے تو یہ مکروہِ تنزیہی (ناپسندیدہ) ہے، البتہ نماز ہو جائے گی۔ اگر خشوع و خضوع اور عاجزی کی نیت سے ننگے سر پڑھے تو جائز ہے۔ لیکن آج کل فیشن کے طور پر اسے عادت بنا لینا درست نہیں۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات