لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

زندگی میں اپنے اعضاء (گردہ وغیرہ) کا عطیہ کرنا

کیا کوئی شخص اپنے قریبی رشتہ دار کی جان بچانے کے لیے اپنا ایک گردہ عطیہ کر سکتا ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جمہور علمائے پاک و ہند کے نزدیک انسانی جسم محترم ہے اور انسان اس کا مالک نہیں کہ اسے کاٹ کر دے سکے۔ اس لیے زندہ حالت میں گردہ عطیہ کرنا ناجائز ہے۔ البتہ دورِ حاضر کے بعض عرب اور پاکستانی محقق علماء، ماہر ڈاکٹر کی اس ضمانت پر کہ عطیہ دینے والے کی جان کو خطرہ نہیں ہو گا، شدید ضرورت کے تحت اسے جائز قرار دیتے ہیں۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-432 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

جائز وناجائز حلال وحرام