بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

موسیقی، گانے اور آلاتِ موسیقی کا شرعی حکم

کیا گانے سننا یا میوزک بجانا جائز ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

قرآنِ مجید کی آیات (لہو الحدیث) اور متواتر احادیث کی روشنی میں تمام آلاتِ موسیقی (ڈھول، باجا، گٹار وغیرہ) بجانا اور گانے سننا قطعی حرام ہے۔ موسیقی دل میں نفاق پیدا کرتی ہے اور اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔ صرف جنگ اور شادی میں دف کی مشروط اجازت ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات